سائفر کیس فیصلہ، سرکاری وکلا کی تعیناتی کوئی انہونی بات نہیں: سابق اٹارنی جنرل

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

انہوں نے کہا کہ جب آپ کا ڈیفنس کونسل آپ کی ہدایت پر معاملات میں تاخیر کرنے کی کوشش کرتا رہے یا خود آپ ایسی کیفیت بنا دیں کہ ٹرائل ممکن نہ ہو تو سرکاری وکلا کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔

اشتر اوصاف نے مزید کہا کہ وکلائے صفائی ویڈیو لنک کے ذریعے بھی جرح کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی اور  شاہ محمود قریشی کیخلاف سائفر کیس میں سنائی جانے والی سزا سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے ماہر قانون اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ اس کیس میں سزا کم دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کی اس سلسلے میں عمران خان اور شاہ محمود عدالت میں موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!