واشنگٹن (26 مارچ 2026) – امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور تہران کو فوری طور پر سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے۔
خواجہ اجمیر نگری پولیس مقابلہ: 2 ڈاکو ہلاک، خاتون ساتھی گرفتار
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار غیر معمولی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور بظاہر مذاکرات کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم عوام کے سامنے مختلف مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو دیر ہونے سے پہلے سنجیدہ ہونا ہوگا، ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
واشنگٹن میں اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے فنڈ ریزنگ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اندرونی طور پر دباؤ اور خوف کا شکار ہے اور قیادت کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران خود امریکا سے بات چیت کا خواہاں ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران فوری ڈیل چاہتا ہے مگر اندرونی خوف کے باعث کھل کر سامنے نہیں آ رہا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی پوزیشن مضبوط ہے۔ ایک اور بیان میں انہوں نے نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو نے کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کیا اور امریکا کو اس اتحاد سے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر اسے امریکی دباؤ اور ممکنہ حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ جوہری پروگرام سے دستبرداری نہ ہونے کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
