اسلام آباد (26 مارچ 2026) – نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کی صورت میں جاری ہیں۔
ٹرمپ کی ایران کو وارننگ، ڈیل کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے 15 نکات ایران کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں، جن پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیے اور مصر سمیت دیگر برادر ممالک بھی اس عمل میں معاونت کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کے طور پر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مختلف ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے اور اس حوالے سے ایران کو متعدد درخواستیں موصول ہوئیں، جن کا جواب دیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا اور امریکا و اسرائیل کی جانب سے مذاکرات کی پیشکشوں کو مکمل طور پر قابلِ اعتبار نہیں سمجھتا۔ اسماعیل بقائی نے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک قریبی پڑوسی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات موجود ہیں، جبکہ ایران کو پاکستان کی نیت پر اعتماد ہے۔
