ایم نائن موٹروے سے تجاوزات ختم کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

سندھ ہائی کورٹ نےایم نائن موٹروے سے انکروچمنٹ ختم کرکے 12 فروری تک رپورٹ طلب کرلی۔

سندھ ہائیکورٹ میں ایم نائن موٹروے سی انکروچمنٹ کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، دوران سماعت جسٹس ندیم اختر نے استفسار کیا کہ ڈی سی آفس سے کون آیا ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ ڈی سی آفس سے کوئی پیش نہیں ہوا ہے جس پرعدالت نے کہا کہ ناظر کی رپورٹ آپ نے دیکھی ہے این ایچ اے اور نجی کمپنی اسکورنے لوگوں کو اجازت دے رکھی ہے۔

جسٹس ندیم اخترنے کہا کہ ناظرکی رپورٹ کے مطابق ڈمپر لوڈر، کنسڑشن ہے کچی پکی ہے بس اسٹینڈ ہے، کس اختیارکے تحت آپ نے ان لوگوں کو جگہ دی گئی ہے۔

نجی کمپنی اسکورنے کہا کہ ہم نے تحریری معاہدے کیے تھے کہ ان پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے جس پرعدالت نے کہا کہ آپ نے انکروچمنٹ کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں، جو لوگ کروڑوں روپے کما رہے وہ کیوں خالی کریں گے جگہ؟

حکام نجی کمپنی نے کہا کہ ہم ڈبل روڈ بنائیں گےاس جگہ انکروچمنٹ ختم کرادیں، ان لوگوں نے ڈسٹرکٹ کورٹس سے حکم امتناع لے رکھے ہیں۔

جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیے کہ ایک سے دو کلومیٹر تک انکروچمنٹ ختم ہوئی ہیں باقی سب انکروچمنٹ ہیں، ڈی سی ایسٹ کی جانب سے کیوں کوئی پیش نہیں ہوا ہے۔

درخواست گزارنے کہا کہ اسکورنامی پرائیویٹ کمپنی نے اپنا راج قائم کیا ہوا ہے، سروس روڈ پر پیٹرول پمپ بنانے کا این او سی اسکور نے جاری کردیا ہے، درخواست گزارکی جانب سے پیڑول پمپ کا این او سی عدالت میں پیش ہے، دن رات پیٹرول پمپ کی کنسٹرکشن کا کام جاری ہے۔

عدالت نے استفسارکیا کہ اسکورکیوں ماسٹر پلان پیش نہیں کررہے ہیں، پیٹرول پمپ کی اجازت دی گئی ہے یا نہیں۔

وکیل این ایچ اے نے کہا کہ ہم نے اجازت دی ہے آراو ڈبلیو کی جگہ ہے این ایچ اے نے پرمیشن دی ہے، ہم سروس روڈ پر پیٹرول پمپ نہیں بنا رہے ہیں سندھ حکومت کی جگہ ہے۔

عدالت نے پیٹرول پمپ کی تعمیرات آئندہ سماعت تک روکنے کا حکم دے دیا۔

اسسٹنٹ کمشنر شرقی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ الاصف سے جمالی پل تک انکروچمنٹ ختم کرادی ہے جس پر جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ پندرہ جنوری سے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں وہ بتائیں۔

اسسٹںٹ کمشنرنے کہا کہ ہمیں ٹائم دیں رپورٹ جمع کرادیں گے جس پرعدالت نے کہا کہ پندرہ جنوری سے ابھی تک کتنی انکروچمنٹ ختم ہوئی ہے وہ بتائیں، آپ ابھی لکھ کردیں کتنی انکروچمنٹ ختم ہوئی ہے کتنی باقی ہیں آج ہی بتائیں۔

جسٹس ندیم اخترنے کہا کہ سیلاب متاثرین سے جگہ کیوں نہیں خالی کروائی گئی یا سندھ حکومت نے انکو مستقل جگہ دے دی ہے ، ان سیلاب متاثرین کو واپس کیوں نہیں بھیجا گیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنرنے کہا کہ سریہ افغان ہیں انکو متبادل جگہ دی گئی ہے، جس پرعدالت نے کہا کہ جو بھی انکروچمنٹ ہیں انہیں ختم کرائیں۔ انکروچمنٹ کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے انکروچمنٹ ختم کرکے 12 فروری تک رپورٹ طلب کرلی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!