افغان طالبان کی دھمکی آمیز پالیسی عالمی دباؤ میں بے نقاب

کابل، 11 مارچ 2026 – افغان طالبان رجیم کی شدت پسندی ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔ امریکا کی جانب سے افغانستان کو ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دینے کے بعد طالبان نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا۔

پاکستان ہر صورت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے، ترجمان وزیراعظم

بلخ میں طالبان کے گورنر کے ترجمان عطا اللہ زید نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان پر سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ: "اگر تم نے ہمیں دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ہم اس کے لیے تیار ہیں اور سخت جواب دیں گے۔ ہم تمہیں تمہارے ہی ہتھیاروں سے ماریں گے، وہ ہتھیار جو ہم نے تم سے قبضے میں لیے ہیں۔” تاہم بعد میں یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی گئی۔

ماہرین کے مطابق یہ دھمکی طالبان کی غیر مستحکم پالیسی اور عالمی دباؤ کے سامنے کمزور اعصاب کی عکاسی کرتی ہے۔ افغان طالبان اگر عالمی سطح پر قبولیت چاہتے ہیں تو انہیں دھمکی آمیز بیانات کے بجائے سفارتی زبان اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔

افغان طالبان کی انتہا پسندانہ پالیسیوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی نے افغانستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “افغان طالبان کی دھمکی آمیز پالیسی عالمی دباؤ میں بے نقاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!