کراچی، 10 مارچ 2026: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ کابینہ نے صوبے بھر میں توانائی کی بچت، مالی نظم و ضبط اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے جامع کفایت شعاری پیکیج اور پیٹرول بچاؤ منصوبے کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔
رمضان اور یومِ شہادت حضرت علیؓ پر سندھ بھر میں سخت سیکیورٹی انتظامات
کابینہ نے 23 نکاتی ایجنڈے پر غور کرتے ہوئے سرکاری اخراجات میں کمی، پیٹرول کی بچت، تعلیم، صحت، زراعت اور سماجی تحفظ کے اقدامات کی منظوری دی۔ کفایت شعاری منصوبے کے تحت سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کی فراہمی میں 50 فیصد کمی اور محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو دو ماہ کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم ہنگامی اور آپریشنل گاڑیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
مزید برآں، وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی نے اپریل، مئی اور جون کے تین ماہ کے لیے اپنی تنخواہیں اور الاؤنسز معطل کرنے کا اعلان کیا جبکہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی تجویز کی گئی ہے۔ گریڈ 20 اور اس سے زائد افسران کو بھی رضاکارانہ طور پر دو دن کی تنخواہ ترک کرنے کی ترغیب دی گئی۔
کابینہ نے موجودہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کے لیے غیر ضروری اخراجات میں 20 فیصد کمی، اسکولوں میں 16 تا 31 مارچ تعطیلات، کالجوں اور جامعات میں آن لائن کلاسز، اور دفاتر میں 50 فیصد عملے کے لیے ورک فرام ہوم کی منظوری دی۔ عوامی اجتماعات، شادی بیاہ اور جلوسوں میں شرکت محدود کرنے اور رفتار کی حد کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سخت نگرانی رکھیں۔ کابینہ نے گندم کے اجرا، انفراسٹرکچر سیس ترامیم، صحت و تعلیم کے منصوبوں اور خواتین زرعی کارکنان کے لیے قوانین کی منظوری بھی دی۔
مزید برآں، سندھ میں خصوصی اقتصادی زونز پر صوبائی اختیار کے تحفظ، متعدد ادارہ جاتی اور عدالتی تقرریاں، جدید اسپتال اور نرسنگ اسکول کے قیام سمیت دیگر اصلاحات بھی کابینہ کے فیصلوں میں شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس کے اختتام پر ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ایندھن کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کڑی نگرانی جاری رکھی جائے اور صوبے میں معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جائے۔
