کراچی: وزیراعلیٰ سندھ Murad Ali Shah کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ماہِ رمضان کے آخری عشرے کے دوران منعقد ہونے والے اہم مذہبی ایام کے موقع پر سیکیورٹی اور انتظامی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں خاص طور پر یومِ قدس، جمعۃ الوداع اور یومِ علیؑ کے موقع پر جلوسوں، اجتماعات اور نماز جمعہ کے اجتماعات کے لیے جامع سیکیورٹی پلان پر غور کیا گیا۔
یومِ علیؑ اور یومِ قدس کیلئے سندھ بھر میں سخت سیکیورٹی کا فیصلہ
اجلاس میں صوبائی وزراء Sharjeel Inam Memon، Nasir Hussain Shah، Zia-ul-Hasan Lanjar اور Riaz Shah Shirazi سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری Asif Hyder Shah، آئی جی سندھ Ghulam Nabi Memon، کمشنر کراچی Syed Hasan Naqvi اور ایڈیشنل آئی جی کراچی Javed Alam Odho بھی موجود تھے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ 13 مارچ کو منعقد ہونے والے Yom-e-Quds اور Jumuat-ul-Wida جبکہ 21 رمضان المبارک کو ہونے والے Youm-e-Ali کے موقع پر صوبے بھر بالخصوص کراچی میں خصوصی سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔ جلوسوں اور مذہبی اجتماعات کے روٹس پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی جبکہ حساس مقامات کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید مانیٹرنگ نظام کو بھی فعال رکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جلوسوں اور اجتماعات کے راستوں پر سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی خصوصی ٹریفک مینجمنٹ پلان تیار کیا جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے بلدیاتی اداروں کو ہدایت دی کہ مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کے راستوں پر صفائی ستھرائی کے مؤثر انتظامات کو یقینی بنایا جائے جبکہ شہریوں کو پانی کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے اور سی سی ٹی وی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
مراد علی شاہ نے اس موقع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے تمام مکاتبِ فکر کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس کے حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اور انتظامی منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریاں مکمل رکھیں۔
