شہر کے تاریخی تجارتی مرکز Empress Market میں واقع گوشت مارکیٹ کے مرکزی دروازے کے سامنے مبینہ طور پر راتوں رات دیوار تعمیر کر دی گئی جس کے باعث دکانداروں اور خریداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دیوار کی تعمیر کے خلاف دکانداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ حکام کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔
حیدرآباد میں ڈوبنے والے نوجوان کی لاش تیسرے روز برآمد
مظاہرین کا کہنا ہے کہ دیوار کی تعمیر سے گوشت مارکیٹ کا مرکزی گیٹ مکمل طور پر بند ہو گیا ہے جس کے باعث کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ دکانداروں کے مطابق یہ مارکیٹ کراچی کی قدیم اور تاریخی مارکیٹوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں بڑی تعداد میں شہری خریداری کے لیے آتے ہیں۔
احتجاج کرنے والے دکانداروں نے الزام عائد کیا کہ Karachi Metropolitan Corporation کے ایک ڈائریکٹر نے ان کے حصے کی دکانیں مبینہ طور پر پچاس پچاس لاکھ روپے میں ڈرائی فروٹس کے تاجروں کو الاٹ کر دی ہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں دکانوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
دکانداروں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دیوار کو ہٹایا جائے اور گوشت مارکیٹ کا مرکزی دروازہ دوبارہ کھولا جائے تاکہ ان کا کاروبار بحال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
دوسری جانب تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا، تاہم دکانداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور تاریخی مارکیٹ کے تاجروں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
