وزیراعلیٰ سندھ Murad Ali Shah سے وفاقی وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb اور وزیر پٹرولیم Ali Pervaiz Malik نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں اہم ملاقات کی جس میں عالمی تیل قیمتوں میں اضافے، ایندھن کے ذخائر اور ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
کراچی میں ایف آئی اے کی کارروائی، حوالہ/ہنڈی کے دو ملزمان گرفتار
اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ Zia-ul-Hassan Lanjar، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، سیکریٹری توانائی شہاب انصاری اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جبکہ وفاقی وفد میں ایڈیشنل سیکریٹری پٹرولیم ڈویژن ظفر عباس، ایگزیکٹو ڈائریکٹر Oil and Gas Regulatory Authority عاطف سجاد، ڈی جی آئل پٹرولیم ڈویژن عمران احمد، ممبر آئل اوگرا زین العابدین اور منیجنگ ڈائریکٹر Sui Southern Gas Company محمد امین اور محمد ادریس شامل تھے۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں وفاقی حکومت نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بچتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال اور عوامی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کا پہیہ چلتا رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اجلاس میں زیرغور آنے والی تمام تجاویز کو صوبائی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت عالمی توانائی منڈیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ماہانہ تیل درآمدی بل 600 ملین ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ ایندھن کے ذخائر کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنے کے لیے بچت اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل تک پٹرول کے تین جہاز پاکستان پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پٹرول پمپوں پر ذخیرہ اندوزی کے خدشات بھی موجود ہیں جن پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ قطر کے فورس میجر اعلان سے ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات سے متبادل ایندھن کی فراہمی کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ حکام نے کہا کہ Strait of Hormuz کے علاوہ دیگر راستوں سے تیل کی سپلائی یقینی بنانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایندھن کے ذخائر کی نگرانی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ ڈیش بورڈ تیار کیا جائے گا اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے دونوں سطحوں پر رابطہ مزید مضبوط کیا جائے گا۔ وزیر پٹرولیم نے یہ بھی بتایا کہ حکومت International Monetary Fund سے پٹرولیم لیوی میں ممکنہ ریلیف کے لیے بات چیت کرنے پر غور کر رہی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وفاق اور صوبائی حکومتوں نے توانائی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
