اسلام آباد: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر دیا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے 6 مارچ 2026 کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس اقدام کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی۔
شاہ ٹاؤن میں رینجرز کی کارروائی، ابڑو گینگ کا سرغنہ سمیت 4 ملزمان گرفتار
اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کی صورتحال کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور وزیراعظم اس صورتحال پر بہت فکر مند ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے آج خود اس معاملے پر میٹنگ کی، جس میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ڈار نے کہا کہ حکومت نے متوازن نقطہ نظر اختیار کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ قیمتوں میں اضافہ کتنا ہونا چاہیے، اور اس ضمن میں دوسرے ملکوں کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔ ڈار نے واضح کیا کہ گزشتہ پانچ روز کے دوران ہر روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خطیر اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث آج رات سے نئے ریٹس نافذ ہوں گے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ حالات غیر معمولی ہیں اور پڑوسی ممالک میں شروع ہونے والی صورتحال نے پورے خطے کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صورتحال کے مطابق اپنے ذخائر بڑھا لیے ہیں اور اب یہ کام حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، حکومت فوری طور پر قیمتیں کم کرنے کی کارروائی کرے گی۔
نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ بھی ہفتہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لے گی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ کم سے کم رہے۔
