مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب اسرائیل کی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ جنگی صورتحال کے باعث اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ سرکاری سطح پر بھی بھاری مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پنجاب میں جعلی و غیرمعیاری ادویات کا انکشاف، ڈرگ کنٹرول بورڈ نے 5 ادویات پر الرٹ جاری کر دیا
اس حوالے سے Israeli Ministry of Finance نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی معیشت کو ایک ہفتے کے دوران تقریباً 9 ارب شیکل سے زائد نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جو کہ لگ بھگ 3 ارب امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔ حکام کے مطابق اگر جنگی صورتحال برقرار رہتی ہے تو آئندہ ہفتوں میں یہ نقصان مزید بڑھ سکتا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق کم شدت کی پابندیوں اور محدود جنگی حالات میں بھی اسرائیل کی معیشت کو ہر ہفتے تقریباً 4.3 ارب شیکل تک نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی ماحول نے سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی پیداوار کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے باعث اسرائیل کے مختلف شہروں میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ عوامی اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق بڑی تعداد میں ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف اسرائیلی معیشت بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
