آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے حملے پسپا

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی بلوچستان کے اضلاع قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں افغان طالبان نے 16 مختلف مقامات پر زمینی حملے کیے، جبکہ بلوچستان میں 25 مقامات پر پاک افواج کے خلاف فائر ریڈ کی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ تاہم تمام حملوں کو بلوچستان میں مؤثر طریقے سے پسپا کر دیا گیا۔

کراچی: امریکی قونصلیٹ پر مظاہرین کے خلاف فائرنگ، 9 ہلاک

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بلوچستان میں افغان طالبان کے 27 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ وطن کی حفاظت کے دوران ایف سی بلوچستان نارتھ کا ایک جوان شہید اور 5 جوان زخمی ہوئے۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں بھی افغان طالبان نے ایک مقام پر زمینی حملے کی کوشش کی، اور صوبے میں 12 مقامات پر فائر ریڈ کی گئی، لیکن یہ سب ناکام بنائے گئے اور کسی بھی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا میں رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے 40 کارندے ہلاک ہوئے۔

وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ فالو اپ آپریشنز تاحال جاری ہیں اور آپریشن کی مکمل تفصیلی اپڈیٹ جلد جاری کی جائے گی۔

یہ کارروائی پاکستان کی سرحدی سیکیورٹی اور افغان طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف قومی دفاع کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، اور پاک افواج نے دشمن کی پیش قدمی کو سخت ردعمل دے کر ناکام بنایا۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے حملے پسپا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!