نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو چکا تھا اور مذاکرات میں مثبت پیشرفت جاری تھی، تاہم اسی دوران اس پر حملہ کر دیا گیا۔
فضائی حدود کی بندش کی خبریں بے بنیاد قرار، کمرشل پروازیں معمول کے مطابق جاری
سینیٹ اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور اس کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے کھل کر اس کی مذمت کی اور صرف 15 منٹ کے اندر باضابطہ ردعمل دیا۔
اسحاق ڈار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے تھے اور عمان ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اسی دوران گزشتہ سال جون کی طرز کا حملہ دوبارہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے حق کی حمایت کی۔ امریکا ایران کا مکمل ایٹمی پروگرام ختم کرنا چاہتا تھا جبکہ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کے لیے بھی تیار تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اندرونِ ملک غلط رنگ دینا مناسب نہیں، ایرانی قیادت پاکستان کی کاوشوں سے بخوبی آگاہ ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ جب پاکستان کے پاس اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت تھی تو امریکا-ایران معاملے پر کئی مباحثے کرائے گئے۔ 12 سال بعد سلامتی کونسل میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور کی گئی جس میں ایران پر حملے کی مذمت اور پابندیاں ہٹانے کی بات کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ تنازع کو سفارتی سطح پر حل کیا جانا چاہیے اور خطے میں تحمل کا مظاہرہ ضروری ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے براہ راست رابطے میں ہیں اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
