وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن کے متعدد حملوں کو مؤثر انداز میں پسپا کر دیا گیا۔
Tuesday, 3rd March 2026
عطا اللہ تارڑ کے مطابق افغان طالبان نے شمالی بلوچستان کے اضلاع قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں 16 مختلف مقامات پر زمینی حملے کیے جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر 25 مقامات پر پاک افواج کے خلاف فائر ریڈ کی کارروائیاں کی گئیں۔ تاہم سیکیورٹی فورسز نے تمام حملوں کو ناکام بناتے ہوئے دشمن کو پسپا کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں جھڑپوں کے دوران افغان طالبان کے 27 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ وطن کا دفاع کرتے ہوئے ایف سی بلوچستان نارتھ کا ایک جوان شہید اور پانچ جوان زخمی ہوئے۔
وفاقی وزیر کے مطابق خیبر پختونخوا میں بھی ایک مقام پر زمینی حملے کی کوشش کی گئی اور 12 مقامات پر فائر ریڈ کیے گئے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں بغیر کسی جانی نقصان کے ناکام بنا دیا۔ صوبے میں رات بھر جاری آپریشنز کے دوران افغان طالبان کے مزید 40 کارندے ہلاک کیے گئے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ فالو اپ آپریشنز تاحال جاری ہیں اور آپریشن کی تفصیلی اپڈیٹ جلد جاری کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دشمن کو ہر محاذ پر مؤثر جواب دیا جائے گا۔
