نجات مہران آپریشن کا دباؤ، 8 خطرناک ڈاکو گھوٹکی پولیس کے سامنے سرینڈر

گھوٹکی (پریس ریلیز، 25 فروری 2026): سندھ حکومت کے احکامات پر جاری نجات مہران آپریشن کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں کچے کے علاقے میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے 8 انتہائی مطلوب ڈاکوؤں اور اغواء کاروں نے گھوٹکی پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

ابراہیم حیدری میں بڑی کارروائی، کروڑوں مالیت کی اسمگل شدہ شراب برآمد

پولیس ترجمان کے مطابق یہ اہم کامیابی ناصر آفتاب کی دلیرانہ قیادت اور مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ نجات مہران آپریشن کے دوران لاڑکانہ/سکھر رینج پولیس، وفاقی سول انٹیلیجنس ایجنسی اور سندھ رینجرز کی جانب سے کچے کے ڈاکوؤں اور اغواء کاروں کو واضح پیغام دیا گیا تھا کہ وہ یا تو سرینڈر کریں یا قانون کے مطابق اپنے منطقی انجام کے لیے تیار رہیں۔

سرینڈر کرنے والے ملزمان میں مور عرف مکھنو ولد میھارو شر، اصغر ولد عمر شر، نالے چنگو ولد مکھنو شر، ممتاز ولد ساجن شر، لطیف ولد پھلوان شر، بڈھو ولد کریم خان شر، شاہ بخش عرف شبن ولد جانن شر اور بھاذر عرف بھادر ولد غلام محمد عرف صدر رند شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ تمام ملزمان قتل، دہشت گردی، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی، بھتہ خوری اور پولیس مقابلوں سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھے اور کچے کے علاقوں میں خوف کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

سرینڈر کے موقع پر ملزمان نے جرائم کی دنیا سے توبہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی ہتھیار ڈال کر قانون کے سامنے پیش ہونے کا پیغام دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرینڈر کرنے والے ملزمان کا مکمل کرمنل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے جبکہ مزید جانچ پڑتال بھی جاری ہے۔

ناصر آفتاب نے اپنے بیان میں کہا کہ کچے کے علاقوں میں جاری نجات مہران آپریشن ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے اور امن و امان کی مکمل بحالی تک جاری رہے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

64 / 100 SEO Score

One thought on “نجات مہران آپریشن کا دباؤ، 8 خطرناک ڈاکو گھوٹکی پولیس کے سامنے سرینڈر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!