کراچی — سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والے دو سگے بھائیوں خضر علی بن خالد اور حیدر علی بن خالد کی نمازِ جنازہ جامع مسجد محمدی، زمیندار چوک گلبہار میں انتہائی رنج و الم کے ماحول میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ مولانا بشیر فاروقی نے پڑھائی، جس میں پاکستان سنی تحریک کے مرکزی کوآرڈینیٹر طیب حسین قادری، شہداء کے اہلخانہ، عزیز و اقارب، دینی و سماجی شخصیات اور عاشقانِ رسول ﷺ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فضا سوگوار تھی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
ضلع وسطی میں پولیو ورکرز کے اعزاز میں پروقار تقریب، نیشنل امیونائزیشن ڈیز فروری 2026 کا باضابطہ آغاز
نمازِ جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی کوآرڈینیٹر پاکستان سنی تحریک طیب حسین قادری نے کہا کہ جس گھر کا چراغ بجھتا ہے اس درد کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، ماں باپ کے سامنے جوان اولاد کا دنیا سے چلے جانا قیامت سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کا سانحہ ہے۔
طیب حسین قادری نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ مسلسل حکومتی نااہلی، مجرمانہ غفلت اور ناقص انتظامات کا نتیجہ ہے۔ اگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرتے، عمارتوں کے بروقت فائر آڈٹ ہوتے اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جاتا تو آج کئی گھر اجڑنے سے بچ سکتے تھے۔ ہر سانحے کے بعد بیانات اور کمیٹیاں بن جاتی ہیں مگر عملی اقدامات نظر نہیں آتے، جبکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری اور خاطر خواہ مالی امداد فراہم کی جائے، شہداء کے اہلخانہ کے افراد کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں اور مستقل بنیادوں پر ان کی کفالت کا بندوبست کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی جرات نہ ہو۔
طیب حسین قادری نے واضح کیا کہ پاکستان سنی تحریک دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف کے حصول تک ہر ممکن قانونی، اخلاقی اور سماجی تعاون جاری رکھا جائے گا، اور شہداء کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
