وفاقی وزیر بحری امور کا بندرگاہوں اور سمندری تحفظ کے لیے جدید سیٹلائٹ نگرانی نظام اپنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بندرگاہوں کی توسیع، سمندری تحفظ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید خلائی اور سیٹلائٹ نگرانی نظام اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سمندروں کے تحفظ، بحری انتظام و انصرام میں بہتری اور ماحولیاتی چیلنجز سے بروقت نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ابراہیم حیدری پولیس کی کارروائی، منشیات فروشی میں ملوث عادی جرائم پیشہ ملزم گرفتار

یہ بات انہوں نے پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے دوران کہی، جو بحری امور کے کسی وفاقی وزیر کا اپنی نوعیت کا پہلا دورہ تھا۔ اس موقع پر چیئرمین سپارکو یوسف خان اور اعلیٰ حکام نے وفاقی وزیر کو ادارے کی سائنسی سرگرمیوں، تکنیکی صلاحیتوں اور نظامِ کار پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ، بحری تحفظ اور بندرگاہوں کے انتظام میں سپارکو کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی وزیر کو نئی بندرگاہوں کے قیام کے لیے ممکنہ مقامات کا سیٹلائٹ پر مبنی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جو ملک میں بحری انفرااسٹرکچر کی توسیع کی حکمتِ عملی کا عکاس ہے۔ قومی سمندری حدود میں ریلیف اور ریسکیو آپریشنز سے متعلق منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جن میں سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ردِعمل کے وقت اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کی تجاویز شامل تھیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور ساحلی علاقوں کو درپیش قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے سمندری حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، سمندری وسائل کے پائیدار استعمال اور بحری ماحول کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی قومی بحری پالیسیوں کو عالمی ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے اور پاکستان اوشن بایو ڈائیورسٹی ٹریٹی کا رکن ہونے کے ناطے قومی دائرہ اختیار سے باہر سمندری حیات کے تحفظ سمیت عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

بریفنگ کے دوران سپارکو حکام نے وزارتِ بحری امور میں قائم آرٹیفیشل انٹیلی جنس میری ٹائم سیکریٹریٹ کے ذریعے بندرگاہوں کے لیے اے آئی پر مبنی حل تیار کرنے کی پیشکش کی، جن میں کارگو ڈویل ٹائم کی نگرانی اور کسٹمز سے متعلق رکاوٹوں کے حل کے نظام شامل ہیں۔

اجلاس میں وزارتِ بحری امور اور سپارکو کے مابین تعاون کو باضابطہ شکل دینے پر بھی غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ جلد دستخطی تقریب کے ذریعے مشترکہ منصوبوں کے لیے منظم فریم ورک قائم کیا جائے گا اور عملدرآمد کو مؤثر بنانے کے لیے فوکل پرسنز بھی نامزد کیے جائیں گے۔

سپارکو حکام نے ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے بحری ٹریفک کی ٹریکنگ، مینگرووز کی نگرانی، ساحلی علاقوں میں تیل کے اخراج کی بروقت نشاندہی، طوفانی لہروں اور سمندری طوفانوں کی پیشگی اطلاع کے نظام پر بھی بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے قدرتی آفات سے نمٹنے میں سپارکو کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت وارننگ سسٹمز ساحلی آبادیوں کی جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

WhatsApp Image 2026 01 21 at 4.44.32 PM 1 WhatsApp Image 2026 01 21 at 4.44.33 PM WhatsApp Image 2026 01 21 at 4.44.33 PM 1

70 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!