امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ پبلک چارج رول کے تحت کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجوہات ویزا فراڈ، درخواست گزاروں کی جانچ پڑتال اور امریکی حکومت پر مالی بوجھ بننے کے خدشات بتائے گئے ہیں۔
صدر میں غیر قانونی پرندہ مارکیٹ کے خلاف بڑی کارروائی، 20 دکانیں سیل، 2 افراد گرفتار
محکمہ خارجہ کے مطابق متعدد ممالک کے شہری غلط بیانی کے ذریعے امریکا کا ویزا حاصل کرتے ہیں اور بعد ازاں واپس نہیں جاتے، جس سے امریکی نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امیگریشن نظام کو محفوظ اور شفاف بنانا ہے۔
امریکی حکام نے بتایا کہ اس فیصلے کے تحت تمام امیگرنٹ ویزا درخواستوں کے اسکریننگ عمل کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ ویزا فراڈ اور دیگر ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔ پابندی کا اطلاق 21 جنوری سے ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اس فہرست میں افغانستان، بنگلادیش، ایران، عراق، نیپال، روس، شام، یمن اور پاکستان سمیت متعدد ممالک شامل ہیں، جبکہ مستقبل میں پالیسی میں تبدیلی یا نظرثانی سے متعلق کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی۔
