امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی تیل برآمدات پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم چلا رہا ہے تاکہ ایرانی حکومت کی مالی معاونت کے ذرائع ختم کیے جا سکیں۔ امریکی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کی معاشی سرگرمیوں کو عالمی سطح پر محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔
لاہور میں اسٹیج اداکار قیصر پیا سے موبائل فون چھین لیا گیا، مقدمہ درج
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کا مالیاتی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے، متعدد بینک بند ہو رہے ہیں، مہنگائی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ ملک کو زرمبادلہ کی سنگین قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حالات نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ ایران سے کروڑوں ڈالر ملک سے باہر منتقل کیے جا رہے ہیں اور ایرانی قیادت بحری جہازوں کے ذریعے بڑی مقدار میں ڈالر بیرونِ ملک بھیج رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات ایران کی مالی اور اقتصادی سرگرمیوں کو قابو میں لانے اور عالمی مالی نظام تک اس کی رسائی محدود کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
