پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سکیورٹی کی جانب سے کور کمانڈر پشاور کو اِن کیمرہ بریفنگ کے لیے لکھا گیا خط ایک نئے تنازع کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
عارف والا میں گھر میں آتشزدگی، ماں اور دو کمسن بچیاں جاں بحق، والد شدید زخمی
اس سے قبل صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے ایک خط منظرِ عام پر آیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ صرف سکیورٹی آپریشنز کے ذریعے پائیدار امن ممکن نہیں، بلکہ سیاسی اور سماجی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے اس خط کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی یا صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ فوجی قیادت، بالخصوص کور کمانڈر یا جی ایچ کیو سے براہِ راست اِن کیمرہ یا ادارہ جاتی بریفنگ کی درخواست کرے۔
ذرائع نے واضح کیا ہے کہ تاحال ایسا کوئی خط کور ہیڈکوارٹر کو موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق روزمرہ کوآرڈینیشن یا معمول کے رابطے اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم صوبائی اسمبلی میں امن و امان سے متعلق اِن کیمرہ بریفنگ کسی صورت معمول کا معاملہ نہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا معاملہ ایک حساس اور باضابطہ ادارہ جاتی عمل ہوتا ہے، جس کے لیے وفاقی سطح پر منظوری لازمی ہوتی ہے، اور اس کے بغیر ایسی درخواست کی کوئی آئینی یا انتظامی حیثیت نہیں۔
