کراچی میں بڑے دہشت گرد منصوبے کا پردہ فاش، 2 ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد برآمد، تین دہشت گرد گرفتار

کراچی: انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کراچی میں دہشت گردی کے ایک انتہائی خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کئی ہفتوں پر محیط پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی سازش بے نقاب کی گئی۔

اے وی ایل سی کراچی کی خفیہ کارروائی، موٹر سائیکل چوری میں مطلوب ملزم گرفتار، مسروقہ موٹر سائیکل برآمد

پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مصدقہ اطلاعات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کی گئی، جس کے دوران 2 ہزار کلوگرام سے زائد انتہائی تباہ کن بارودی مواد برآمد ہوا۔ اس اہم کامیابی پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن (ر) غلام اظفر مہیسر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

حکام کے مطابق کئی دنوں اور راتوں کی مسلسل محنت کے بعد پہلے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، جس سے تفتیش کے دوران مزید اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ ان انکشافات کی بنیاد پر گزشتہ شب مزید دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش اور حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں۔

انٹیلی جنس اداروں کی مسلسل نگرانی، انسانی اور تکنیکی ذرائع کے مؤثر استعمال اور غیر معمولی چوکنا پن کے باعث دہشت گردی کے اس منصوبے کو بروقت ناکام بنایا گیا۔ عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچانے کے لیے آپریشن کو مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔

کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کیے گئے۔ برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں انتہائی محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا۔ حکام کے مطابق اس بڑی مقدار میں بارودی مواد کی برآمدگی سے بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔

ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ دہشت گرد کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا جہاں بارودی مواد ذخیرہ اور تیار کیا جا رہا تھا۔

شواہد کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سے اندرونِ بلوچستان کے راستے کراچی پہنچایا گیا، جبکہ دہشت گرد نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے، جن میں بھارتی پراکسی تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف شامل ہیں جو افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی سپلائی چین توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے۔ مقامی سہولت کار معمولی مالی مفادات کے بدلے دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں، جبکہ دہشت گرد رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی، مؤثر جانچ اور یوریا سمیت دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال پر قوانین کے سخت نفاذ پر زور دیا ہے۔ حکام کے مطابق دہشت گردی کے اس منصوبے میں ملوث تمام عناصر کا تعاقب جاری ہے اور مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

Press Release PPT

67 / 100 SEO Score

2 thoughts on “کراچی میں بڑے دہشت گرد منصوبے کا پردہ فاش، 2 ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد برآمد، تین دہشت گرد گرفتار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!