کراچی، 17 دسمبر 25: کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور بلڈرز، ڈیولپرز اور بزنس کمیونٹی کو منظم طریقے سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ بھتہ خور اور قبضہ مافیا نے پاکستان کے معاشی انجن کراچی شہر کو یرغمال بنا رکھا ہے، جبکہ ان عناصر کو فتنہ الخوارج کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔
پاک بحریہ کی چوتھی ہنگور کلاس آبدوز “غازی” چین میں لانچ
ایسوسی ایشن آف بلڈرز کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے آباد ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ بلڈرز اور کاروباری افراد کی مال و جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھتہ خور ایران سے کالز کر کے پیسے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ان کی پرچی وصول نہ کی جائے تو فائرنگ شروع کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آباد کے 10 ممبران کو گزشتہ پانچ ماہ کے دوران دبئی اور ایران کے نمبروں سے مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے بھتہ طلب کیا گیا۔
محمد حسن بخشی نے کہا کہ شہر میں نصب سیف سٹی کیمروں کے باوجود بھتہ خور پکڑے نہیں گئے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وصی اللہ لاکھو کے خلاف 60 مقدمات ہونے کے باوجود جرائم کا بازار گرم ہے۔
چیئرمین آباد نے مزید کہا کہ زمینوں پر قبضوں میں اب سرکاری افسران بھی ملوث ہیں، نیو کراچی سیکٹر14 میں آباد کے ممبر کی زمین پر قبضہ کیا گیا اور عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ بھتہ خوری کے علاوہ ایف بی آر کے چھاپے بھی بلڈرز کے دفاتر پر مہینوں قبضہ رکھنے اور کروڑوں روپے رشوت کے مطالبے کے لیے کئے جا رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں سابق چیئرمین محسن شیخانی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز اور چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی بھی موجود تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھتہ خوری میں ملوث افراد کے خلاف فوری ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں اور رینجرز کی تعیناتی کے ساتھ شہریوں اور بلڈرز کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
محمد حسن بخشی نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی میں کاروبار بند ہونے اور احتجاجی دھرنے دینے سمیت دیگر آپشن پر غور کیا جائے گا، جس سے نہ صرف شہر بلکہ ملک کی معیشت پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔
