چیف جسٹس کے خلاف تشدد پر اکسانے کے جرم میں ٹی ایل پی رہنما کو قید و جرمانے کی سزا

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے لاہور پریس کلب کے باہر اجتماع کے دوران اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تشدد پر اکسانے والی تقاریر کرنے کے جرم میں ایک مذہبی جماعت کے رہنما ظہیرالحق حسن شاہ کو مختلف دفعات کے تحت قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
ٹرمپ کا بی بی سی کے خلاف مقدمہ، کیپیٹل ہِل حملے سے قبل تقریر ایڈٹ کرنے کا الزام

عدالت کے مطابق لاہور پریس کلب کے باہر منعقدہ اجتماع میں، جس میں تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی بھی موجود تھے، ملزم نے ایسی تقاریر کیں جو چیف جسٹس کے خلاف تشدد پر اکسانے کے مترادف تھیں۔

قلعہ گجر سنگھ پولیس نے 2024 میں مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں چیف جسٹس کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں ایس ایچ او حماد حسین کی مدعیت میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 6، 7 اور 11 ڈبلیو کے تحت درج کی گئی تھی۔

جج ارشد جاوید نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو مجرم قرار دیا اور اسے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے 15 گواہان پیش کیے گئے، جبکہ ڈپٹی پراسیکیوٹر عبدالجبار ڈوگر نے عدالت سے قانون کے مطابق سخت سزا کی استدعا کی۔

ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ رانا مقصود الحق نے حتمی دلائل میں بریت کی درخواست کی، تاہم عدالت نے دلائل مسترد کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(1)(b) کے تحت 10 سال قیدِ مشقت، دفعات 7(g)، 21(L) اور 11(w) کے تحت پانچ پانچ سال قید، جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 505، 117 اور 188 کے تحت بالترتیب سات سال، تین سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔

عدالت نے مجرم پر مجموعی طور پر 6 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس کے خلاف تشدد کی کال کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے، جس پر سیاسی و مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت سامنے آئی تھی۔ حکومتی عہدیداروں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ مذہب کے نام پر تشدد اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “چیف جسٹس کے خلاف تشدد پر اکسانے کے جرم میں ٹی ایل پی رہنما کو قید و جرمانے کی سزا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!