اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2026-27 قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، جس میں حکومت نے مجموعی اخراجات کا حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران ٹیکس اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں، دفاع، توانائی اور سماجی تحفظ کے متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔
یہ وفاقی بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب حکومت معیشت کو مستحکم کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے دعوے کر رہی ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، تعمیراتی شعبے اور برآمدی صنعتوں کیلئے مختلف ریلیف اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب کا بجٹ وژن
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 میں حقیقی معاشی شرح نمو 4 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ افراط زر کی اوسط شرح 8.2 فیصد متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 3.6 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران وفاقی ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 5 ہزار 336 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں دفاعی اخراجات
حکومت نے قومی دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں گزشتہ سال کی دفاعی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب زرمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ بھی بن رہی ہے۔ مزید برآں انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی تعاون اور چین کے ساتھ شراکت داری کا بھی ذکر کیا۔
وفاقی بجٹ اور ترقیاتی پروگرام
حکومت نے مالی سال 2026-27 کیلئے قومی ترقیاتی پروگرام کا حجم 3 ہزار 675 ارب روپے مقرر کیا ہے۔ اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کیلئے 2 ہزار 224 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
اسی طرح سرکاری اداروں میں سرمایہ کاری کیلئے 451 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق ترقیاتی پروگرام کا بڑا حصہ بنیادی ڈھانچے، توانائی اور آبی وسائل کے منصوبوں پر خرچ ہوگا۔
ٹرانسپورٹ منصوبوں کیلئے ریکارڈ فنڈز
ترقیاتی بجٹ میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کیلئے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے قومی شاہراہوں، موٹرویز، ریلوے اور بندرگاہی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔
حکومت نے M-6 سکھر-حیدرآباد موٹروے کیلئے 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں ML-1 ریلوے منصوبے کیلئے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گوادر بندرگاہ اور دیگر ٹرانسپورٹ منصوبوں کیلئے 93 ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔
توانائی اور بجلی کیلئے اہم اعلانات
توانائی کے شعبے کیلئے 116.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس رقم میں ہائیڈل پاور، تھرمل پاور اور ٹرانسمیشن منصوبے شامل ہیں۔
مزید یہ کہ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کیلئے خصوصی فنڈز رکھے گئے ہیں۔ واپڈا کے مختلف منصوبوں کیلئے 50.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہائیڈل منصوبوں کیلئے 13.1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
پانی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ
حکومت نے پانی کے منصوبوں کیلئے 103.1 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ڈائمر بھاشا ڈیم کیلئے 14 ارب روپے اور مہمند ڈیم کیلئے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح داسو ہائیڈل پاور منصوبے کیلئے 22 ارب روپے اور کراچی کے K-4 واٹر سپلائی منصوبے کیلئے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ مختلف آمدنی کے سلیبز میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح کم کی جا رہی ہے۔ حکومت نے اضافی سرچارج مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 25 سے 30 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں کیلئے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح دیگر سلیبز میں بھی نمایاں کمی کی سفارش کی گئی ہے۔
تعمیراتی شعبے کیلئے ٹیکس میں کمی
حکومت نے تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے کیلئے مختلف ٹیکسوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح بلڈرز کیلئے خریداری پر عائد ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور متعدد متعلقہ صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا۔
صنعت اور آئی ٹی برآمدات کیلئے سہولتیں
وزیر خزانہ نے کہا کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 28 فیصد سے کم کرکے 27 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم بینکنگ، تیل و گیس اور فرٹیلائزر سیکٹر پر موجودہ سرچارج برقرار رہے گا۔
دوسری جانب آئی ٹی برآمدات پر موجود رعایتی ٹیکس نظام کو مزید تین سال کیلئے برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
خواتین اور خاندانی منصوبہ بندی کیلئے اقدامات
بجٹ میں خواتین کے سینیٹری پیڈز اور متعلقہ مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز زیر غور لائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مانع حمل اشیا پر عائد ٹیکس ختم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
حکومت کے مطابق یہ اقدامات خواتین کی صحت اور آبادی کے بہتر انتظام سے متعلق پالیسی اہداف کا حصہ ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے فنڈز
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کیلئے 2 ہزار 680 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ پروگرام تقریباً 12 ملین خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرے گا۔
اس کے علاوہ فلاحی منصوبوں، ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم اور دیگر سماجی اقدامات کیلئے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔
کھیلوں اور نوجوانوں کیلئے نئی سرمایہ کاری
وفاقی حکومت نے کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے 1.851 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم سے مختلف شہروں میں کھیلوں کی سہولتوں کو بہتر بنایا جائے گا۔
اسلام آباد میں ارشد ندیم اور شہباز شریف ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کے قیام کیلئے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں جبکہ مصنوعی ہاکی ٹرف اور جدید تربیتی مراکز کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
وفاقی بجٹ میں مجموعی حکمت عملی
حکومت کے مطابق وفاقی بجٹ 2026-27 کی بنیادی ترجیح معاشی استحکام، برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ مزید برآں ترقیاتی منصوبوں، توانائی، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کیلئے بھی نمایاں فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
اب بجٹ تجاویز پارلیمانی بحث اور منظوری کے مراحل سے گزریں گی، جس کے بعد نئے مالی سال کی حکمت عملی کو عملی شکل دی جائے گی۔