اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ (ICMPD) کے تعاون سے 3 سے 5 دسمبر 2025 تک تین روزہ بنیادی سطح کی OSINT ٹریننگ ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور نیشنل سی ای آر ٹی—پاکستان کے ماہرین نے شرکت کی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا واٹر کارپوریشن ہیڈ آفس کا اچانک دورہ، 24 گھنٹوں میں 75 فیصد شہری شکایات حل
بین الاقوامی ماہرین نے سائبر کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ اور جعلی نوکریوں کی بھرتیوں سے متعلق تفصیلی سیشنز میں شرکاء کو قانونی، تکنیکی اور اسٹریٹجک پہلوؤں پر بریف کیا۔ ٹریننگ میں شرکاء کو بتایا گیا کہ کس طرح اوپن سورس انٹیلی جنس ٹولز کے ذریعے جعلی جاب نیٹ ورکس کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔
ٹریننگ کے دوران ڈیجیٹل شواہد جمع کرنے، ورچوئل کرنسیوں و بلاک چین کے کردار اور جدید قانون نافذ کرنے والے اداروں میں AI پر مبنی ٹولز کے استعمال پر بھی خصوصی لیکچرز دیے گئے۔ شرکاء عملی مشقوں، گروپ ایکٹیویٹیز اور سوال و جواب کے سیشنز میں بھرپور طور پر شریک رہے۔
ورکشاپ میں سوشل میڈیا کے کردار، غلط معلومات، اور ہائبرڈ خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا، جو جعلی بھرتیوں اور آن لائن دھوکہ دہی میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ آخری روز بین ایجنسی کوآپریشن ورک فلو پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس نے مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ورکشاپ کا اختتام ایک جامع عملی واک تھرو کے ساتھ ہوا، جس میں شرکاء نے سیکھے گئے تمام تکنیکی مراحل کو عملی طور پر انجام دیا۔ اس تربیت نے نہ صرف قومی سطح پر متعلقہ اداروں کی استعداد کار کو بڑھایا بلکہ تارکینِ وطن کے خواہشمند افراد کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے عزم کو بھی تقویت دی۔
ایف آئی اے کے مطابق FJA-PAK اقدام کے تحت جعلی ملازمتوں کے اشتہارات اور سائبر اسمگلنگ کے خلاف پاکستان نے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔
