عرب اور مسلم ممالک نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے کردار پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں غزہ کے انتظام کے لیے تجویز کردہ ’امن کونسل‘ سے ہٹا دیا ہے۔ اب امکان ہے کہ وہ اس کے بجائے کمزور ایگزیکٹو کمیٹی میں شامل ہوں گے۔
اسلام آباد بلدیاتی انتخابات 15 فروری 2026 کو ہوں گے، الیکشن شیڈول جاری
مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق، یہودی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ دی کہ بلیئر اب کونسل کی رکنیت کے لیے زیر غور نہیں ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے انہیں اس کونسل کے لیے مضبوط امیدوار قرار دیا تھا۔ بلیئر نے خدمات انجام دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی، جس کی صدارت ٹرمپ کرنا چاہتے تھے۔
گزشتہ ہفتے ریاستی ٹی وی چینل ’کان‘ نے اطلاع دی کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بلیئر کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کی، جس میں غزہ کے انتظام کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی پر بات کی گئی۔
حماس کا موقف
ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق، حماس کے عہدیدار طاہر النونو نے کہا کہ بلیئر کو ہٹانے کی رپورٹس حماس کے موقف سے ہم آہنگ ہیں، جو بارہا ثالثوں سے مطالبہ کرتے رہے کہ انہیں غزہ سے متعلق کسی بھی ادارے میں شامل نہ کیا جائے۔
النونو نے مزید کہا کہ تحریک طویل مدتی جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اسرائیلی حکومت تمام شرائط پر عمل کرے، تاہم تل ابیب نے اب تک کئی بار ان کی خلاف ورزی کی۔
حماس نے زور دیا کہ کسی بھی منصوبے میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو بین الاقوامی فورس کے ذریعے زبردستی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا مسترد کیا گیا ہے اور کبھی زیر بحث نہیں آیا۔
