عزیز میاں قوال روح پرور آواز کے مالک جن کی قوالیاں آج بھی دلوں پر راج کرتی ہیں

برصغیر کے عظیم قوال عزیز میاں 17 اپریل 1942ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام عبدالعزیز تھا، جبکہ "میاں” آپ کا تکیہ کلام تھا جو بعد ازاں آپ کے نام کا مستقل حصہ بن گیا۔ قوالی کی دنیا میں آپ نے جو مقام حاصل کیا، وہ بہت کم فنکاروں کے حصے میں آتا ہے۔
پاکستانی ہرڈلز اسٹار عبدالرشید کی شاندار کارکردگی کو خراجِ تحسین

عزیز میاں کو فن قوالی میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ ان کی مشہور قوالیاں "اللہ ہی جانے کون بشر ہے” اور "یا نبی یا نبی” آج بھی بے پناہ مقبول ہیں اور سامعین کے دلوں میں اتر جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ان کی قوالیوں میں کورس گائیکی کو خاص اہمیت دی جاتی تھی تاکہ قوالی کے بنیادی روحانی و فنی نکتے کو ابھارا جا سکے۔ شاعری کی ادائیگی میں بھی انہیں بے مثال مہارت حاصل تھی جو سننے والوں پر گہرا روحانی اثر چھوڑتی تھی۔

عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیوں میں "میں شرابی” (جسے "تیری صورت” بھی کہا جاتا ہے) اور "اللہ ہی جانے کون بشر ہے” شامل ہیں، جو ان کے منفرد انداز اور بے ساختہ جذباتیت کی بہترین مثال ہیں۔

عزیز میاں 6 دسمبر 2000ء کو ایران میں یرقان کے باعث انتقال کر گئے۔ انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی برسی کے موقع پر قوالی کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ وصیت کے مطابق آپ کو اپنے مرشد طوطاں والی سرکار کے پہلو میں ملتان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “عزیز میاں قوال روح پرور آواز کے مالک جن کی قوالیاں آج بھی دلوں پر راج کرتی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!