انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم (آئی آر ایف) راؤنڈ ٹیبل پاکستان نے قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2025 کی منظوری کو پاکستان میں مذہبی آزادی، مساوات اور آئینی ذمہ داریوں کی تکمیل کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
کراچی پولیس میں ترقیوں کا بڑا فیصلہ، 256 سب انسپکٹرز کی پروموشن کے لیے رپورٹس طلب
بل کے مطابق اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے 30 رکنی کمیشن قائم کیا جائے گا جس میں 33 فیصد خواتین کی لازمی نمائندگی یقینی بنائی گئی ہے۔ یہ قانون سپریم کورٹ کے 19 جون 2014 کے فیصلے اور بین الاقوامی معاہدات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔
آئی آر ایف راؤنڈ ٹیبل پاکستان کے نیشنل ڈائریکٹر محمد کاشف مرزا نے کہا کہ یہ بل "حقوق کے ادراک سے حقوق کے عملی نفاذ” کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کمیشن کو مالیاتی خودمختاری حاصل ہوگی اور فنڈز کے استعمال کے لیے حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی۔ کمیشن کو سول کورٹس جیسے اختیارات بھی دیے گئے ہیں، جن کی بدولت وہ حقوق کی خلاف ورزیوں کی مؤثر تحقیق کر سکے گا۔
کاشف مرزا نے زور دیا کہ یہ قانون ایک دہائی کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے، اور انہوں نے حکومت، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، اقلیتی برادری، وکلاء اور سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا جن کی تعاون سے یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔
آئی آر ایف راؤنڈ ٹیبل کی شریک چیئرپرسن انیلا علی نے بھی بل کی منظوری کو اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی برادری طویل عرصے سے عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور مختلف قانونی مسائل کا شکار رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک آزاد اور بااختیار کمیشن نہ صرف انصاف اور جوابدہی کو بہتر کرے گا بلکہ پاکستان کی جمہوری اقدار اور عالمی ساکھ کو بھی مضبوط بنائے گا۔
