اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دونوں ججز نے سپریم کورٹ میں اپنے چیمبرز خالی کر دیے ہیں اور اپنے استعفیٰ خط صدر مملکت کو بھجوا دیے ہیں۔
تُرکیہ فاتح قرار، پاکستان نیوی انٹرنیشنل ناٹیکل کمپیٹیشن 2025
جسٹس منصور علی شاہ نے 27 صفحات پر مشتمل استعفیٰ میں لکھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، جس نے سپریم کورٹ کی آزادی اور خودمختاری کو مجروح کیا ہے۔ ان کے مطابق ترمیم نے عدالت کے اختیار کو محدود کر دیا، انصاف عوام سے دور اور کمزور کے سامنے بے بس ہو گیا، اور وہ کمزور عدالت میں آئین کا تحفظ نہیں کر سکتے۔
اسی طرح جسٹس اطہر من اللہ نے بھی استعفیٰ میں کہا کہ 27 ویں ترمیم نے آئین کی روح پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام حلف آئین کے تحفظ کے لیے اٹھائے، اور موجودہ صورتحال میں وہ اپنے فرائض ایمانداری کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔
دونوں ججز نے واضح کیا کہ آئین کی خودمختاری اور عدلیہ کی آزادی کی پامالی کے خلاف یہ اقدام ناگزیر تھا اور مستقبل میں آئینی عدل کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔
