وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بعض سینیٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزیراعظم کے استثنیٰ سے متعلق پیش کی گئی ترمیم کو فوری طور پر واپس لیں۔
کوئٹہ ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش حملہ دوسرا حملہ آور افغان شہری نکلا وردک کا رہائشی محمد سہیل عرف خباب قرار
ایک روز قبل وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ بل پیش کیا تھا، جس میں ملک کے عدالتی نظام اور فوجی کمان کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز شامل ہیں۔ یہ بل سینیٹ میں پیش کیے جانے کے بعد قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو بھیج دیا گیا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا کہ آذربائیجان سے واپسی پر انہیں معلوم ہوا کہ ان کی پارٹی کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کو استثنیٰ دینے سے متعلق ایک ترمیم جمع کرائی ہے۔
شہباز شریف نے وضاحت کی کہ اگرچہ اس تجویز کے پیچھے نیت نیک تھی، لیکن یہ ترمیم کابینہ کے منظور شدہ مسودے کا حصہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسے فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا:
"اصول کے طور پر ایک منتخب وزیراعظم کو قانون کی عدالت اور عوام دونوں کے سامنے مکمل طور پر جوابدہ رہنا چاہیے۔”
27ویں آئینی ترمیم کے تحت مجوزہ بل میں ایک وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court – FCC) کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے، جو عدالتی تقرریوں، تبادلوں اور آئینی تنازعات پر نظرثانی کا اختیار رکھے گی۔ اس سے سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو جائیں گے۔
بل کے مطابق ججوں کی تقرری میں صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا مرکزی کردار ہوگا، جبکہ پارلیمنٹ کو وفاقی آئینی عدالت میں خدمات انجام دینے والے ججوں کی تعداد کے تعین کا اختیار حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ مجوزہ ترمیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے ایک نئے عہدے کے قیام کی بھی سفارش کی گئی ہے، جو مسلح افواج کے سربراہ کے طور پر 27 نومبر 2025 سے ذمہ داریاں سنبھالے گا، جب موجودہ آرمی چیف نیا عہدہ سنبھالیں گے۔
