وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ گرین لائن فیز 2 منصوبے پر کراچی کی بلدیاتی حکومت کو بعض تحفظات تھے، جنہیں دور کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے منصوبے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور امید ہے کہ منصوبے پر جلد دوبارہ کام شروع ہوجائے گا۔
کراچی میں 6 روز کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 26 ہزار سے زائد ای چالان
کراچی میں گرین لائن منصوبے کے دورے کے موقع پر صوبائی وزیر منصوبہ بندی جام خان شورو کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ گرین لائن کا فیز 2 ساڑھے پانچ ارب روپے کا منصوبہ ہے، جو 29 ارب روپے کے فیز ون منصوبے کا تسلسل ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے کراچی کے عوام کو مزید سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیشہ کراچی کو ترجیح دی ہے، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں ماس ٹرانزٹ کے منصوبے صوبائی فنڈز سے مکمل کیے گئے، لیکن کراچی کو نواز شریف نے 29 ارب روپے کے گرین لائن منصوبے کی صورت میں خصوصی تحفہ دیا۔ اب ساڑھے پانچ ارب روپے سے فیز 2 مکمل کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کے فور منصوبے میں بھی پہلے یہ طے ہوا تھا کہ وفاق اور صوبہ دونوں برابر رقم دیں گے، تاہم اب وفاقی حکومت 100 فیصد فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ کے فور پر 140 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود پانی کی تقسیم کا مرحلہ باقی ہے، جو سندھ حکومت مکمل کرے گی۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ پی آئی ڈی سی ایل، جو پاک پی ڈبلیو ڈی کا جانشین ادارہ ہے، چاروں صوبوں میں وفاقی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، یہ صرف سندھ کے لیے مخصوص نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کے ایم سی کا معاملہ صرف کوآرڈینیشن سے متعلق ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افسران کی تقرری جلد کی جائے گی، تاکہ منصوبے پر پیش رفت ممکن ہو۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آئینی ترامیم کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت رکھتی ہے، لہٰذا ان پر بات چیت سیاسی جماعتوں کے مشورے سے ہوگی۔
احسن اقبال نے بتایا کہ سکھر تا حیدرآباد موٹر وے ان کی حکومت کے دور میں مکمل ہوگی جبکہ کوئٹہ، چمن تا کراچی شاہراہ کو ایکسپریس وے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
