وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کُرم سیکٹر میں افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے حملے کو ناکام بنانے پر پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی سالمیت کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا اور افغانستان کی سرزمین کا پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے لیے استعمال کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
اسپن بولدک پر افغان طالبان کے حملے پسپا پاک فوج کا بھرپور جواب متعدد دہشت گرد ہلاک دشمنی چوکیوں اور ٹینک تباہ
وزیراعظم کے مطابق پاک فوج نے افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کی ہے۔ یہ بیان اسی پس منظر میں آیا ہے جب پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ 15 اکتوبر 2025 کو اسپن بولدک میں افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے حملوں کا موثر جواب دیا گیا، جس کے نتیجے میں 15 تا 20 حملہ آور ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پچھلے حملوں کے سلسلے میں کُرم سیکٹر میں بھی دشمن نے چوکیوں پر حملے کی کوشش کی تھی جنہیں فورسز نے پسپا کر دیا۔
فوجی بیانات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جوابی کارروائیوں میں دشمنی چوکیوں کو شدید نقصان پہنچا، بعض ٹینک اور ٹینک پوزیشنز تباہ ہوئیں اور مجموعی طور پر درجنوں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ سیکیورٹی حالات کے بارے میں جاری اطلاعات کے مطابق خطے میں فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان کے مزید دستے جمع ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، تاہم پاکستانی فورسز چوکس اور الرٹ ہیں۔
پس منظر میں واضح رہے کہ 11 تا 12 اکتوبر کی درمیانی شب کشیدگی اس وقت بڑھی جب کابل نے الزام عائد کیا تھا کہ اسلام آباد نے افغان دارالحکومت پر فضائی کارروائیاں کی تھیں؛ اس کے بعد باہمی جوابی بیانات اور سیکیورٹی ردعمل سامنے آئے۔ اسلام آباد نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، مگر مخالف فریق پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے گریز کرے۔
