کورکی (بلوچستان): فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے بلوچستان کے علاقے کورکی میں پرامن شہریوں پر حملہ کیا، جس پر مقامی قبائل نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے چار دہشتگردوں کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا۔
ذرائع کے مطابق مقامی قبائل نے دہشتگردوں کو علاقہ خالی کرنے کے لیے بارہا کہا، حتیٰ کہ زکلی آدم زئی قبیلے کی خواتین نے قرآن کا واسطہ دے کر انہیں علاقہ چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم دہشتگردوں نے انکار کیا اور خواتین کو ہراساں کرنے جیسے گھٹیا اقدامات جاری رکھے۔
دہشتگردوں کے مذموم عزائم دیکھتے ہوئے مقامی قبائل نے اپنے دفاع کا فیصلہ کیا۔ جھڑپ کے دوران ایک مقامی فرد شہید جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔
مقامی قبائل نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے پرامن علاقے کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات سے یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ فتنہ الہندوستان کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی بلوچ روایات سے۔
بلوچستان کے بہادر عوام دہشتگردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں اور ان کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔
