وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں 200 ملی میٹر بارش کے باعث اربن فلڈنگ ہوئی، اتنی بارش کے بعد بٹن دبا کر پانی نہیں نکالا جا سکتا، تاہم اس صورتحال پر شہریوں سے معذرت خواہ ہوں۔
بلوچستان ہائی کورٹ کا بڑا حکم کوئٹہ میں 2 گھنٹے میں موبائل انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم
نجی نیوز چینل سے گفتگو میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہریوں کو کہا گیا تھا کہ بارش کے دوران گھروں میں رہیں مگر لوگ سڑکوں پر نکل آئے، شاہراہ فیصل جام ہوگئی۔ ہمیں سڑکیں بند کرکے لوگوں کو روکنا چاہیے تھا جو نہیں کیا، یہ ہماری کوتاہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نالے واقعی بند تھے تو 5 سے 6 گھنٹوں میں سارا پانی کیسے نکل گیا؟ اس تنقید کو بھی حقیقت کے برعکس قرار دیا۔
مراد علی شاہ نے محکمہ موسمیات پر بروقت اطلاع نہ دینے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو جب بارش شروع ہوئی تو وہ میئر کراچی، چیف سیکریٹری اور دیگر حکام کے ساتھ اجلاس میں تھے مگر اس وقت کسی نے طوفانی بارش کی پیشگوئی نہیں بتائی۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ سندھ کو کمشنر کراچی حسن نقوی نے بریفنگ دی جس میں بتایا گیا کہ شہر کی بیشتر مارکیٹوں سے برساتی پانی نکال دیا گیا ہے اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ صورتحال کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں، تمام ادارے ہم آہنگی کے ساتھ عوامی ریلیف پر کام کریں، شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے
