کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں قدرتی آفات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امداد بھی بھیجی ہے اور اگر مزید ضرورت ہوئی تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات میں کوئی حکومت تنہا مقابلہ نہیں کر سکتی، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کا کردار بھی اہم ہوتا ہے، جیسا کہ سندھ میں سیلاب کے دوران یو این، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں نے مدد فراہم کی تھی۔
بلوچستان میں یومِ آزادی پر بڑی دہشت گردی کی سازش ناکام، بیوٹم یونیورسٹی کا پروفیسر گرفتار
سعید غنی ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان ہندو کونسل کے تحت منعقدہ "ملازمت و تعلیمی ایکسپو تھری” کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ایکسپو میں 123 سے زائد کمپنیوں نے اسٹالز لگائے ہیں تاکہ طلبہ و طالبات کو ان کی تعلیم کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم ہو سکیں۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار واکوانی بھی موجود تھے۔
سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت بارشوں اور قدرتی آفات کے حوالے سے ممکنہ انتظامات کر رہی ہے، تمام لوکل کونسلز اور اداروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو مشکلات سے بچایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سندھ میں بارش یا آفات کے موقع پر حکومت پر شدید تنقید کی جاتی ہے لیکن کے پی کے یا دیگر صوبوں میں ایسی صورتحال پر عوام سڑکوں پر نہیں آتے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ایسے سانحات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے اجتماعی جذبے کے ساتھ متاثرین کی مدد پر توجہ دینی چاہیے۔
اس موقع پر سعید غنی نے سینئر صحافی خاور حسین کے انتقال پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت خوش اخلاق اور ملنسار نوجوان تھے، حکومت سندھ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے اور اگر کوئی شخص ملوث پایا گیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
