خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے صوبے کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، سیلاب اور بارشوں کے باعث 238 سڑکیں، 49 پل اور 47 نالے متاثر ہوئے، جس سے لاکھوں افراد مشکلات میں گھِر گئے۔
کراچی: شاہین فورس اہلکاروں کا ویڈیو بنانے پر جھگڑا، دو پولیس اہلکار معطل
رپورٹ کے مطابق، صوبے کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 266 مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے 47 سڑکوں کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا جبکہ 172 سڑکیں جزوی طور پر ہلکی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ تاہم، 47 سڑکیں اب بھی بند ہیں، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی سوات اور لوئر دیر میں ہوئی، جہاں مجموعی طور پر 25 سڑکیں متاثر ہوئیں۔ سوات میں 3 اور لوئر دیر میں 7 سڑکیں تاحال بند ہیں۔ مردان میں بھی 25 سڑکیں متاثر ہوئیں، جن پر ہلکی ٹریفک بحال کی جاچکی ہے۔
پلوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 16 پل متاثر ہوئے، جن پر ہلکی ٹریفک چل رہی ہے، لیکن 14 پل اب بھی بند ہیں، اور ان کی بحالی کے لیے حکام کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔
اسی طرح سیلاب اور بارشوں سے 47 نالے بھی تباہ ہوئے، جن میں سے 8 کو مکمل اور 31 کو جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے، تاہم 13 نالے تاحال بند ہیں جس سے پانی کی نکاسی کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔
حکومتی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام تیز کر دیے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ان نقصانات کا اثر صوبے پر طویل مدت تک رہے گا اور متاثرہ مکینوں کی زندگیوں کو مسلسل متاثر کرتا رہے گا۔
