راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے "معرکہ حق” اور یومِ آزادی سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ جلد شرح سود میں مزید کمی کی توقع ہے، تاہم ٹیکس بیس کو بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کر رہی ہے۔
چہلم کے موقع پر پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کے احکامات جاری
وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکا سے تجارتی معاہدے کے بعد پاکستان کے پاس شاندار مواقع ہیں، بجٹ میں کم سے کم ٹیکس لگائے گئے ہیں اور ٹیکس نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے اور ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہ رہی ہیں، فچ سمیت دیگر اداروں کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری اسی کا اعتراف ہے۔
ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کی نگرانی کر رہے ہیں اور صنعتکاروں و تاجروں کے تحفظات دور کرنے کے لیے ہفتہ وار اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف اور دیگر اداروں کے ساتھ گرین کلائمیٹ معاہدوں سے فنڈنگ حاصل کی گئی ہے اور مزید اقدامات سے پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے اور صارفین کا اعتماد بلند ترین سطح پر ہے اور تمام معاشی اشاریے درست سمت میں جا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ بلال کیانی ہر ماہ چیمبرز کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے اور مشاورتی کمیٹیاں پہلے ہی تشکیل دی جا چکی ہیں تاکہ پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کی جانب اجتماعی طور پر بڑھا جا سکے
