جنیوا/لندن (مانیٹرنگ ڈیسک): اقوام متحدہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ پر قبضے کے منصوبے کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔
سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، فی تولہ 500 روپے مہنگا
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے اپنے بیان میں کہا کہ:
-
نیتن یاہو کی حکومت کو غزہ پر قبضے سے فوری طور پر روکا جائے۔
-
یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
-
اسرائیل غزہ سے قبضہ ختم کرے اور فلسطینی عوام کو حقِ خود ارادیت دے۔
-
نیا فوجی آپریشن بے مقصد تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کو فوری ختم کیا جائے اور اسرائیل و فلسطین دو ریاستوں کی حیثیت سے پرامن بقائے باہمی کے اصول پر قائم ہوں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی کابینہ نے نیتن یاہو کے غزہ پر مکمل قبضے کی تجویز منظور کرلی ہے، جس کے بعد غزہ کے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا الٹی میٹم بھی جاری کیا گیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اسرائیلی فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ:
-
اسرائیل کا قبضے کا منصوبہ تنازع کا حل نہیں بلکہ مزید خونریزی کا باعث بنے گا۔
-
اس سے قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں ہوگی اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔
-
اسرائیل سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر فوراً نظرِ ثانی کرے۔
بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کی قیادت فلسطینیوں کے تحفظ اور امن کے قیام پر زور دے رہی ہیں۔
