اسلام آباد: پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اور مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کر دی ہے۔ اس سے قبل فِچ ایجنسی بھی پاکستان کی ریٹنگ بہتر کر چکی ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان پر اعتماد کی بحالی کا اظہار ہے۔
روس کے علاقے امور میں مسافر طیارہ تباہ، 49 ہلاکتوں کا خدشہ، خراب موسم حادثے کی ممکنہ وجہ
ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ "ٹرپل سی پلس” سے بڑھا کر "بی مائنس” کر دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 20.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جب کہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4.5 فیصد پر آ گئی ہے، جو معیشت کے استحکام کی علامت ہے۔
ادارے کے مطابق شرح سود میں نمایاں کمی آئی ہے، اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کر کے اسے 11 فیصد پر لا کھڑا کیا ہے۔ مالی سال 2025 میں جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصد رہی، جبکہ آئندہ سال 3.6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ترسیلات زر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ مالی سال کے دوران خسارہ کم ہو کر 5.6 فیصد رہ گیا۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے اکتوبر 2024 میں پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کا نیا بیل آؤٹ پیکیج منظور کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو چین، سعودی عرب، یو اے ای اور کویت سے 16.8 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملی، جس نے بیرونی مالیاتی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دی۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق سیکیورٹی کی صورتحال میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے، اور توقع ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاونت جاری رکھیں گے۔
