تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان مشترکہ سرحد پر کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں متنازع علاقوں میں شدید جھڑپوں کے دوران درجنوں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تھائی لینڈ نے ایف-16 طیارے سے کمبوڈین اہداف پر بمباری کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کمبوڈیا نے جوابی طور پر میزائل داغے ہیں۔
اسلام آباد کی اے ٹی سی نے عمر ایوب کے قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیے، راجہ بشارت راولپنڈی سے گرفتار
الجزیرہ کے مطابق، تھائی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ کمبوڈیا نے پہلے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جبکہ کمبوڈین وزارتِ دفاع کا مؤقف ہے کہ ان کی فوج نے دفاعی ردعمل دیا، کیونکہ وہ پہلے تھائی حملے کی زد میں آئی۔
تازہ اطلاعات کے مطابق کم از کم چھ مختلف سرحدی مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں، جن کی ابتدا قدیم کھمر مندر "تا موآن تھوم” کے قریب ہوئی، جو تھائی صوبہ سورن اور کمبوڈیا کے اودار مینچی صوبے کے درمیان واقع متنازع علاقہ ہے۔
تھائی وزارتِ دفاع کے ترجمان سوراسنت کونگسیری کے مطابق سرحدی علاقوں میں جاری لڑائی نے مقامی آبادی کو خوفزدہ کر دیا ہے، اور بچے، خواتین، بزرگ افراد بم پروف شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
تھائی وزیر صحت سمساک تھیپسوٹھن نے تصدیق کی ہے کہ جھڑپوں میں اب تک 11 شہری اور ایک فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمبوڈیا کی کارروائیاں، جن میں ایک ہسپتال پر حملہ بھی شامل ہے، "جنگی جرائم” کے زمرے میں آتی ہیں۔
تھائی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کنتھرالک، کاپ چونگ، نم یون اور بوری رام کے سرحدی اضلاع میں گولہ باری سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ رہائشی مکانات اور زرعی اثاثے بھی تباہ ہوئے۔ فوج نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ملکی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔
تھائی فوج کے نائب ترجمان ریچا سکسووانون نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم نے منصوبہ بندی کے تحت ایف-16 طیارے سے کمبوڈین فوجی اہداف پر بمباری کی ہے۔”
ادھر کمبوڈین وزیر اعظم ہن منیت نے تھائی حملوں کو "مسلح جارحیت” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کمبوڈیا طاقت سے جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ نے اوڈار مینچی صوبے میں کمبوڈین مقامات کو نشانہ بنایا، اور حملے موم بی علاقے تک پھیل گئے ہیں۔
کمبوڈین حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اجلاس بلانے کی اپیل بھی کر دی ہے۔ یہ درخواست اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے نام خط کے ذریعے کی گئی ہے، کیونکہ جولائی میں کونسل کی صدارت پاکستان کے پاس ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکو نے معمول کی پریس کانفرنس میں "گہری تشویش” کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک بات چیت سے تنازع حل کریں۔ چین نے کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے، جبکہ کمبوڈیا نے تھائی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی برادری کی فوری مداخلت ناگزیر بنتی جا رہی ہے۔
