کراچی: سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی 45 فیصد بڑھ گئی، سیٹلرز کی ٹارگٹ کلنگ میں 100 فیصد اضافہ
پی اے سی کی ہدایات کے بعد ایس بی سی اے نے 13 افسران پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو سال 2020-21 کی پرفارمنس آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں غیر قانونی تعمیرات اور خستہ حال عمارتوں سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کا بنیادی مقصد پی اے سی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات مرتب کرنا ہے۔ یہ جوابات دو دن کے اندر ڈی جی ایس بی سی اے سے منظوری کے بعد سیکریٹری بلدیات سندھ کو ارسال کیے جائیں گے تاکہ رپورٹ پر شفاف طریقے سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کمیٹی ارکان، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی ایس بی سی اے کے ہمراہ شریک ہوں گے اور تمام سوالات کا براہ راست جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ یہ کمیٹی حال ہی میں چیئرمین اور ایک رکن کی معطلی کے بعد ازسر نو تشکیل دی گئی ہے۔ پی اے سی کی جانب سے یہ اقدام شہر میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تعمیرات اور عوامی تحفظ کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
