لیاری بلڈنگ سانحہ: عمارت کا اصل پلاٹ نمبر مختلف نکلا، مخدوش اور غیرقانونی تعمیر کا انکشاف — سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے انکشاف کیا ہے کہ لیاری بلڈنگ سانحہ کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ میں دیے گئے پلاٹ نمبر میں غلطی تھی، متاثرہ عمارت کا اصل پلاٹ نمبر 136/LY-18 ہے نہ کہ 129/LY-19 جیسا کہ ابتدائی معلومات میں بتایا گیا تھا۔

نیپرا کا بجلی صارفین کے لیے بڑا ریلیف: کے الیکٹرک صارفین کے لیے 4 روپے 3 پیسے اور دیگر کے لیے 50 پیسے فی یونٹ کمی

بدھ کے روز جماعت اسلامی کے ٹاؤنز چیئرمینز کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ متاثرہ عمارت 40 سے 50 سال قبل غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ حتمی رپورٹ آج رات تک موصول ہو جائے گی، جس کی روشنی میں ذمہ داران — چاہے وہ سرکاری ہوں یا نجی — کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ مخدوش قرار دی گئی عمارتوں کو خالی کرانے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان عمارتوں کے مکینوں کو پہلے مرحلے میں 3 ماہ کا کرایہ ادا کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو متاثرہ خاندانوں کی بحالی کو یقینی بنائے گی۔

انہوں نے اجلاس کے حوالے سے بتایا کہ اس میں غیرقانونی تعمیرات، پانی و سیوریج کے مسائل، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر شہری مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ جماعت اسلامی کے چیئرمینز کی جانب سے کئی مثبت تجاویز دی گئیں جن پر عمل درآمد سے شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔

سعید غنی نے وضاحت کی کہ سانحے کے بعد قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے علاقے کا دورہ کرکے کئی حیران کن انکشافات کیے، جن میں سب سے اہم بات عمارت کے اصل پلاٹ نمبر کی تبدیلی تھی۔ جس پلاٹ کا پہلے ذکر کیا گیا تھا، وہ عمارت بھی مخدوش قرار دی جا چکی ہے اور اب اسے بھی خالی کرالیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں مخدوش اور غیرقانونی عمارتوں کا جامع سروے کیا جا رہا ہے، اور ایسے تمام یونٹس کی تفصیلات اکٹھی کی جا چکی ہیں۔ بہت جلد غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بھی سخت کارروائیاں نظر آئیں گی۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت آج ہونے والے اجلاس میں متاثرہ عمارت، کمیٹی کی رپورٹ اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی فیصلے کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

61 / 100 SEO Score

2 thoughts on “لیاری بلڈنگ سانحہ: عمارت کا اصل پلاٹ نمبر مختلف نکلا، مخدوش اور غیرقانونی تعمیر کا انکشاف — سعید غنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!