لیاری میں عمارت گرنے کا واقعہ: سرکاری غفلت، ملی بھگت اور غیردستاویزی تعمیرات بے نقاب

کراچی: لیاری میں گزشتہ روز گرنے والی عمارت کے سانحے میں افسوسناک انکشافات سامنے آئے ہیں، جن سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سمیت متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت، بدعنوانی اور ملی بھگت کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔

پاکستان بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت سے منایا گیا، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

ذرائع کے مطابق، یہ عمارت 2022 میں تین منزلہ حالت میں ہی خطرناک قرار دے دی گئی تھی، اور ایس بی سی اے کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ تیسری منزل کو گرا کر بنیادوں کو مضبوط کیا جائے۔ تاہم ان ہدایات پر عمل نہ کرتے ہوئے الٹا اس خطرناک عمارت پر مزید دو غیر قانونی منزلیں تعمیر کر دی گئیں۔

جیو نیوز نے ایس بی سی اے کی وہ سرکاری دستاویزات حاصل کر لی ہیں جن میں عمارت کو 2022 میں ناقابل رہائش قرار دیا گیا تھا، لیکن 2023 سے 2025 کے درمیان کاغذات میں اسے محض 3 منزلہ دکھا کر مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ اس دوران نہ تو عمارت کی نیچلی منزلوں کی مرمت کی گئی، نہ ہی غیر قانونی تعمیرات پر کوئی کارروائی کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بلڈرز مافیا نے سرکاری افسران کی مبینہ سرپرستی میں اضافی دو منزلیں تعمیر کیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے بھی اس معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔

سانحے کے بعد یہ اہم سوالات پیدا ہوگئے ہیں کہ:

  • جب عمارت پہلے ہی خطرناک قرار دی جا چکی تھی تو اضافی منزلیں کیسے تعمیر ہوئیں؟

  • ایس بی سی اے کی ویجیلنس ٹیم نے تعمیرات کے وقت رپورٹ کیوں نہیں کی؟

  • دستاویزات میں پانچ منزلہ عمارت کو تین منزلہ کیوں ظاہر کیا جاتا رہا؟

  • متعلقہ اداروں نے گیس، بجلی اور پانی کی فراہمی کیوں بند نہیں کی؟

یہ تمام سوالات متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

ادھر ریسکیو حکام کے مطابق ملبے سے آج مزید 6 لاشیں نکالی گئی ہیں، جس سے جاں بحق افراد کی تعداد 21 ہو گئی ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 10 سے 12 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور ملبہ مکمل ہٹانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

52 / 100 SEO Score

One thought on “لیاری میں عمارت گرنے کا واقعہ: سرکاری غفلت، ملی بھگت اور غیردستاویزی تعمیرات بے نقاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!