اسلام آباد: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح چیلنج دے دیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو آئینی طریقے سے نہیں گرایا جا سکتا، گورنر راج لگانا ہے تو لگا کر دیکھ لیں۔
جنوبی افریقی فضائیہ کے سربراہ کا ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، تربیتی تعاون اور تکنیکی اشتراک پر بات چیت
پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، تمام رہنما اور کارکنان بانی تحریک انصاف کی قیادت میں متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف جو بھی فیصلہ کریں گے، پارٹی مکمل طور پر اس کی پیروی کرے گی۔
گوہر علی خان نے کہا کہ بانی نے ہمیشہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیا، لیکن مذاکرات نتیجہ خیز اور بامعنیٰ ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بانی حکم دیں گے، تحریک چلانے کے لیے ہم تیار ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت سازش کے بغیر نہیں گرائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو تحریک عدم اعتماد لاکر دکھائے، لیکن ہماری حکومت کو گرانا اتنا آسان نہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اُن پر بانی پی ٹی آئی کے خلاف بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، جبکہ 26ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں پر مینڈیٹ چوری کیا گیا اور ہماری جدوجہد ہر حال میں جاری رہے گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ محرم الحرام کے بعد پرامن سیاسی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، آٹھ دہائیوں سے عوام کو محروم رکھا گیا۔ 8 فروری کے الیکشن میں بھی دھاندلی کے حربے استعمال کیے گئے۔
پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے عدلیہ سے اپیل کی کہ جیلوں میں بند رہنماؤں کی صحت سے متعلق تحقیقات کرائی جائیں اور چیف جسٹس فوری طور پر جوڈیشل انکوائری تشکیل دیں۔
