غزہ میں اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 81 فلسطینی شہید اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں ایک بار پھر تیز ہوگئی ہیں۔
Nazimabad Water Tank Controversy | Will Other Areas Lose Their Water Supply?
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ میں بھی جنگ بندی کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ دوحہ، واشنگٹن اور قاہرہ کے ساتھ مل کر ثالثی کے عمل میں سرگرم ہے، اور موجودہ فضا کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماجد الانصاری، جو قطری وزیراعظم کے مشیر بھی ہیں، نے جمعے کے روز اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ "اگر اس موقع کو ہم نے ضائع کیا تو یہ ایک اور بڑا نقصان ہوگا جیسا کہ ماضی میں کئی بار ہو چکا ہے۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اگلے ہفتے تک جنگ بندی کا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ جنوری میں ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد مختصر جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جو مارچ میں ختم ہوگیا، جس کے بعد اسرائیلی کارروائیاں تیز ہو گئیں۔
ماجد الانصاری نے بتایا کہ قطر فریقین سے براہ راست بات نہیں کر رہا، تاہم ہر فریق کے ساتھ الگ الگ سطح پر رابطے میں ہے۔ انہوں نے جنوری میں ہونے والے اس معاہدے کا حوالہ بھی دیا جس میں حماس کے زیرِ حراست قیدیوں کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدی رہا کیے گئے تھے۔
ادھر غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں میں 81 شہری شہید اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ بی بی سی کے مطابق غزہ شہر کے ایک اسٹیڈیم کے قریب حملے میں بچوں سمیت کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ اسٹیڈیم بے گھر افراد کے خیموں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
المواسی کے علاقے میں اپارٹمنٹ بلاک اور خیموں پر کیے گئے حملوں میں بھی بچوں سمیت 14 افراد کے شہید ہونے کی اطلاع ہے۔ جافا اسکول کے نزدیک فضائی حملے میں مزید 8 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں 5 بچے شامل ہیں۔
