سندھ حکومت کے منصوبے، وعدے اور پیش رفت: وزیراعلیٰ کا جامع جائزہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں مختلف منصوبوں کی پیش رفت اور چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ کراچی میں 150 بسیں چلانے کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا۔ تاہم، سندھ بھر میں صفائی اور پینے کے پانی کے لیے بڑے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔

سندھ دوست بجٹ؛ ترقی، ثقافت اور سیاحت کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار

انہوں نے کہا کہ لینڈ ریکارڈز کی ڈیجیٹلائزیشن میں اب تک مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی، لیکن اس سمت میں کام جاری ہے۔ ماتلی اور سکھر کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا پائلٹ منصوبہ زیر تکمیل ہے۔

سیف سٹی منصوبے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ فیز ون اگلے سال ستمبر یا اکتوبر تک مکمل ہوگا، جس میں ریڈ زون اور شاہراہ فیصل کا احاطہ کیا جائے گا۔ صرف آئی آئی چندریگر روڈ پر 57 کیمروں کی مدد سے درجنوں الرٹس جاری ہو چکے ہیں، جن میں غلط نمبر پلیٹس اور مطلوب افراد کی نشاندہی شامل ہے۔ فیز ٹو 2026 میں مکمل کیا جائے گا، اور اس کے لیے بجٹ مختص کیا جا چکا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی واضح طور پر نظر آ رہی ہے، جس کا ثبوت عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور عالمی اداروں کا بھروسہ ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے سندھ کو باقی صوبوں سے زیادہ قرضہ دینے پر آمادہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2022 کے سیلاب کے بعد ورلڈ بینک نے ریکارڈ مدت میں سندھ کے لیے قرضہ منظور کیا۔ وفاق سے 86 ارب روپے حاصل کیے گئے، جو کہ سندھ کے حق کا حصہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ن لیگ کو نہیں بلکہ وفاقی حکومت کو سپورٹ کر رہے ہیں، اور ہمارا مقصد صرف صوبے کے مفادات کا تحفظ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ موجودہ ہیلی کاپٹر 36 سال پرانا ہو چکا ہے، اسی لیے نیا ہیلی کاپٹر خریدا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے لیے کئی سال بعد نئی گاڑیاں خریدی گئی ہیں، تاہم آئندہ سال سے گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کا منصوبہ کسانوں کے ذریعے ہی آگے بڑھایا جائے گا تاکہ مقامی کاشتکار بھی ترقی کا حصہ بن سکیں۔

One thought on “سندھ حکومت کے منصوبے، وعدے اور پیش رفت: وزیراعلیٰ کا جامع جائزہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!