کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کے واقعے پر حکومت سندھ نے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر جیل خانہ جات علی حسن زرداری نے ملیر جیل کا ہنگامی دورہ کیا اور جیل میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
وزیر نے اعلان کیا کہ جو قیدی رضاکارانہ طور پر واپس آ جائیں گے، ان کی سزا میں 3 ماہ کی کمی کی سفارش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی مکمل اور شفاف انکوائری کی جائے گی اور ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے 2 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ علی حسن زرداری نے واضح کیا کہ سندھ کی جیلوں کو اصلاحی مراکز میں تبدیل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اچانک دورے جیلوں میں موجود مافیاز کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیلوں میں کھانا پہنچانے والے افراد سے سختی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور کسی بھی مافیا کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق، ان کے اصلاحاتی اقدامات سے جیلوں کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
