شرافی گوٹھ حادثہ: اسسٹنٹ پروفیسر کی ہلاکت، زخمی کی مدد نہ کرنا افسوسناک، آئی جی سندھ

کراچی: شرافی گوٹھ میں پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثے میں اسسٹنٹ پروفیسر افتخار احمد جاں بحق ہو گئے۔ حادثے کے بعد زخمی کو بروقت طبی امداد فراہم نہ کیے جانے پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر متاثرہ فرد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جاتا تو قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی۔

ترکیہ کو مطلوب خطرناک داعش دہشت گرد ابو یاسر پاک افغان بارڈر سے گرفتار

آئی جی سندھ نے عوام سے اخلاقی، قانونی اور مذہبی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کی صورت میں زخمی کی مدد کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "خون کا ضیاع، مہلک زخم اور طبی امداد میں تاخیر متاثرہ شخص کی موت کا سبب بن سکتے ہیں، لہٰذا شہری بلا خوف مدد کریں، پولیس اور سول ادارے مکمل تعاون فراہم کریں گے۔”

آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ قانونی پیچیدگیوں کا خوف بے بنیاد ہے، زخمی کی مدد کرنے والا شہری "مسیحا” ہوتا ہے جسے عزت اور تحفظ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے، اور یہ ایمان کا تقاضا بھی ہے۔”

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد خاموشی نہیں، حرکت کیجئے، زخمی کی مدد کیجئے کیونکہ ہر زندگی قیمتی ہے۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “شرافی گوٹھ حادثہ: اسسٹنٹ پروفیسر کی ہلاکت، زخمی کی مدد نہ کرنا افسوسناک، آئی جی سندھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!