دوشنبے میں گلیشیئرز کے تحفظ پر عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دنیا اس وقت دوہرے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے — ایک طرف غزہ میں ہتھیاروں کے استعمال نے انسانیت کو زخم دیے ہیں اور دوسری طرف پانی جیسے بنیادی وسیلے کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو افسوسناک اور تشویشناک قرار دیا۔
کراچی کورنگی میں رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن 2 شرپسند گرفتار
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان انسانی زندگیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے یرغمال بننے کی اجازت نہیں دے گا اور ایسی کسی بھی سرخ لکیر کو عبور نہیں کرنے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا ہے، پاکستان میں 13 ہزار گلیشیئرز موجود ہیں جو ہمارے پانی کا نصف حصہ فراہم کرتے ہیں۔ ان گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا خطرے کی گھنٹی ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ 2022 میں پاکستان کو سیلاب اور شدید بارشوں نے بری طرح متاثر کیا، جس سے زرعی اور معاشی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ پاکستان عالمی آلودگی میں صرف 0.5 فیصد کا حصہ رکھتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے۔
