سعودی میڈیا ادارے العربیہ اور الحدث نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ کے نئے کمانڈر محمد سنوار، جو شہید رہنما یحییٰ سنوار کے بھائی تھے، اسرائیلی فضائی حملے میں خان یونس کے علاقے میں شہید ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، کئی دنوں کی غیر یقینی اطلاعات کے بعد اتوار کو یہ تصدیق ہو گئی کہ محمد سنوار یورپی اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کا نشانہ بنے۔ ان کی لاش خان یونس میں ایک سرنگ سے برآمد ہوئی، جہاں ان کے دس دیگر ساتھیوں کی لاشیں بھی ملی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسی فضائی حملے میں رفح بریگیڈ کے کمانڈر محمد شبانہ بھی شہید ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ محمد سنوار کو ایک خفیہ پناہ گاہ میں نشانہ بنایا گیا جو یورپی اسپتال کے نیچے واقع تھی۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بدھ کے روز اس حملے کی ویڈیو بھی جاری کی، جس میں دھماکوں اور آگ کے شعلوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر اسرائیلی ذرائع نے حملے میں مارے جانے والوں کی شناخت کے حوالے سے کوئی حتمی بیان نہیں دیا تھا، تاہم اب العربیہ اور الحدث نے محمد سنوار کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔
پس منظر:
محمد سنوار کو ان کے بھائی یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد القسام بریگیڈ کی قیادت سونپی گئی تھی۔
یحییٰ سنوار کو اسرائیلی افواج نے 16 اکتوبر 2024 کو ایک جھڑپ میں شہید کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کی 18 اکتوبر کو حماس نے تصدیق کر دی۔
اس سے قبل 31 جولائی 2024 کو حماس کے سیاسی دفتر کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی بم حملے میں شہید ہو چکے تھے۔
یحییٰ سنوار کو ان کی شہادت سے قبل 6 اگست 2024 کو حماس کا سیاسی سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
اہم نکتہ:
محمد سنوار، یحییٰ سنوار اور محمد الضیف کو 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا جاتا تھا۔ ان تینوں کی شہادت کے بعد حماس کو قیادت کے خلا کا سامنا ہے۔
